کُرم ایجنسی میں ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ ایک بجے کے قریب لوئر کُرم کے سرحدی گاؤں چھپری اور ضلع ہنگو کے علاقے توت کس کے درمیانی علاقے سے نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت مسافروں کو اغواء کیا جب وہ تین گاڑیوں میں کُرم ایجنسی سے پشاور جا رہے تھے۔
انہوں نے کہا ’گاڑیوں میں ساٹھ سے زیادہ مسافر سوار تھے۔جن میں سے دو سرکاری اہلکاروں سمیت پچیس افراد کو اغوا کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔‘
اہلکار کے مطابق چالیس سے زیادہ مسلح اغواء کار سڑک کے کنارے گھات لگا کر بیٹھےتھے۔
انہوں نے کہا ’گاڑیوں میں ساٹھ سے زیادہ مسافر سوار تھے۔جن میں سے دو سرکاری اہلکاروں سمیت پچیس افراد کو اغوا کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔‘
اہلکار کے مطابق چالیس سے زیادہ مسلح اغواء کار سڑک کے کنارے گھات لگا کر بیٹھےتھے۔انہوں نے بتایا کہ مغویوں کا تعلق اہل سُنت سے ہے جو ایک قافلے کی صورت میں پشاور جارہے تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس قافلے میں شامل واپڈا کی ایک گاڑی کو مسلح افراد نے آگ لگا کر جلا دیاگیا ہے اور اغواء ہونے والے سرکاری اہلکاروں کا تعلق بھی واپڈا سے ہے۔
یاد رہے کہ پانچ مارچ دو ہزار دس کو بھی ضلع ہنگو میں سکیورٹی فورسز کی نگرانی میں کُرم جانے والے عام شہریوں کے قافلے پر ایک خودکش حملہ ہوا تھا جس میں چارخواتین سمیت چودہ افراد شہید جبکہ پچیس افراد زخمی ہوگئے تھے۔
واضح رہے کہ قبائلی علاقے کُرم ایجنسی کے صدر مقام پارا چنار میں آباد شیعہ آبادی پر گّزشتہ کئی برس سے سُنی مسلک سے تعلق رکھنے والوں کے علاقے سے جانے والے راستے بند ہیں اور شیعہ پارا چنارہ سے پہلے افغانستان اور بعد میں تورخم کے راستے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔
طالبان دہشت گردوں کا شیعہ آبادیوں پر حملہ کرنا تو چل ہی رہا تھا لیکن انھوں نے اہل سنت کو بھی معاف نہیں کیا اور اب ان کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنا ڈالا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/152